ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / تاریخ گواہ ہے ملک میں سب مذاہب کے لوگ مل جل کر صدیوں سے رہ رہے ہیں: امن وانسانیت مہم میں مولانافلاحی

تاریخ گواہ ہے ملک میں سب مذاہب کے لوگ مل جل کر صدیوں سے رہ رہے ہیں: امن وانسانیت مہم میں مولانافلاحی

Mon, 29 Aug 2016 21:04:02    S.O. News Service

بھٹکل:29/اگست(ایس او نیوز)اللہ تعالیٰ نے فطری طورپر ہر انسان کو امن پسند پید اکیا ہے، اس کی روح میں امن کو ودیعت کیا ہے۔ کسی کو گالی دینا، پتھر مارنا ، قتل کرناکوئی بھی پسند نہیں کرتا، تو پھر یہ سب انسان کیوں کررہاہے؟ اس کی کیا وجوہات ہیں؟ نفرت کون پھیلا رہاہے ؟ اس تعلق سے غور وفکر کرنے کی جماعت اسلامی ہند کے قومی سکریٹری مولانا ولی اللہ سعیدی فلاحی نے دعوت دی۔

وہ یہاں رائیل اوک ہوٹل میں جماعت اسلامی ہند بھٹکل کے زیر اہتمام ’’امن وانسانیت‘‘ مہم کے پیش نظر منعقدہ سمپوزیم کی صدارت کرتے ہوئے خطاب کررہے تھے۔ اپنے صدارتی خطاب میں مولانا نے بہت واضح انداز میں کہاکہ کسی کے ٹفن باکس کو کھول کر دیکھا جارہاہے وہ کیا کھار ہاہے، چہرےپر داڑھی ہوتی ہے تو ادھ مرا کردیا جاتاہے، اردو اخبار پڑھتا ہے تو ہنگامہ کھڑا کیا جاتاہے، جمہوری نظام میں شخصی آزادی اور اس کے حق دبایا جارہاہے ، اس کو چھیننے کی سازشیں ہورہی ہیں۔ مولانانے کہاکہ ملک میں صرف 1فی صد لوگ نفرت ، فساد ، اشتعال انگیزی پرتلے ہوئے ہیں، اور جو لوگ  فساد برپا کررہے ہیں ، نفرت پیدا کررہے ہیں، عوام کے درمیان خلیج پیدا کررہے ہیں وہ دھارمک لوگ نہیں بلکہ دھرم کے لبادےمیں اپنی سیاست چمکا رہےہیں، یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ملک اور انسانیت سےکوئی پیار نہیں ہے۔ موجودہ سیاسی حالات کے پس منظر میں مولانا ملک کے مفکرین کی آراء کو پیش کرتے ہوئے کہاکہ ہمارا ملک مطلق العنانی کی طرف بڑھ رہاہے، گھر میں کچھ ہوتاہے تو ہر ایک اس کو حل کرنے کی کوشش کرتاہے ، لیکن ہمار امکھیا زبان ہی نہیں کھولتا اس کو کیا سمجھا جائے۔

دنیا کو کوئی دھرم بھی تشدد کی تعلیم نہیں دیتا اور جو لوگ دھرم کی آڑ میں تشدد پھیلاتے ہیں وہ کبھی انسان ہونے کے لائق نہیں ہیں، مولانا نے ملک میں امن وانسانیت کے قیام کے لئے دو بنیادی باتیں بتائیں کہ ہر ایک میں خوف خدا ہو اور قانون کی حکمرانی ہو ہر طرف امن کا دور دورہ ہوگا۔ اس تعلق سے مولانا نے حاضرین سے وعدہ بھی لیا کہ وہ ملک میں امن کو قائم رکھنے کےلئے اپنا رول ادا کریں گے ۔

مہمان خصوصی کے طورپر شانتی پرکاشن کے مینجر محمد کوئیں نے بزبان کنڑا خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کثرت میں وحد ت اس ملک کی سب سے بڑی طاقت ہے، لیکن آج کل اس کو کمزور کرنےکی کوششیں کی جارہی ہیں۔جب کہ تاریخی طورپر دیکھیں تو اس ملک میں اختلافات، فساد ات 1857کے بعد ہوتےرہے ہیں، اس کو مٹا کر دوبارہ بھائی چارگی قائم کرنے کےلئے بھی کوشش ہوتی رہی ہیں لیکن آج کل ملک میں سنگھرش کو مستقل بنانے کی سازش کی جارہی ہے، دیہاتوں تک اس کو پھیلانے اور وہاں بھیانک تصویر بنانے کی مذموم کوششیں کی جارہی ہیں۔انہوں نے واضح کیاکہ جہاں خوف کا ماحول ہوگا تو وہاں امن کیسے قائم ہوگا اور جہاں امن نہیں وہاں ترقی کیسے ہوگی، کیونکہ ترقی کی بنیاد امن ہے۔ امن ہوگا تو ملک پھولے گا پھلے گا۔ حکمرانی کے خواہش مند لوگ عوام کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرکے اپنی انانیت کو باقی رکھنا چاہتے ہیں، انہوں نے گائے کے گوشت مسئلے پر بات کرتے ہوئے ملک میں گائے کے گوشت کو قتل و غارت گری جاری ہے، آخر کیوں نہ مرکزی حکومت گائے کے گوشت کی رفت پر پابندی عائد نہیں کرتی ، کیا وجہ ہے ؟ انہوںنے حاضرین سے کہاکہ مسائل کی حقیقت کو سمجھیں ، آج جوکچھ ہورہاہے وہ سیاست کی شعبدہ بازی ہے، اس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ آج تک دنیا میں کسی بھی مذہب، مذہبی پیشوا کے نام پر کوئی فساد نہیں ہونے کی بات کہی۔ انہوںنے عوام سے اپیل کی کہ وہ انسانیت کی فکر کو عام کریں ، اس کے لئے جدوجہد کریں، آپس میں اپنے تعلقات و روابط کو مضبوط کریں ، سماج کے بگاڑ پر نیکوکاروں کی خاموشی بھی ایک طرح سے بگاڑ کا سبب بنتے ہیں۔

انجمن ڈگری کالج بھٹکل کے شعبہ کنڑا کے صدر آر ایس نایک نے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہاکہ عالمی سطح پر فرقہ واریت کو عام کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں، مذہبی جنون حد سے بڑھ کر انسانیت کو ختم کرنےپر تلی ہیں۔ مذہبی جنون ہمیں انسانیت سے نکال کرحیوانیت کی طرف لے جارہاہے، ہم تمام کو فطری مذہب کی طرف پلٹنے کی بات کہی۔ منگلورو کی فادر ملر کالج کی موظف پرنسپال سسٹر لورا کورا نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بچپن سے ہی اخلاقی تعلیم بچو ں کودی جائے تو کثرت میں وحد ت کو اپنانے میں بڑی آسانی ہوگی۔ تمام مقررین نے جماعت اسلامی ہند کے اس اقدام کی ستائش کرتے ہوئے ہرممکن تعاون دینے کی بات کہی۔

سمپوزیم کا آغاز مولانا ضیا ء الرحمن ندوی کی تلاوت قرآن اور عبدالجبار اسدی کے کنڑا ترجمہ سے ہوا۔ مہم کے ضلعی کنوینر محمد رضا مانوی تمام کا استقبال کرتےہوئے افتتاحی کلمات پیش کئے۔ بنگلورو کے محمد نواز نے نظامت کے فرائض انجام دئیے۔ ڈائس پر جماعت اسلامی ہند کرناٹکا کے شوریٰ ممبر مولانا لیاقت احمد ملا، جے این نائک، بھاسکر نائک، وینکٹیش نائک، رادھا کرشنا بھٹ وغیرہ موجود تھے ، پروگرا م ہندو مسلم مرد وخواتین کی خاصی تعداد شریک رہی۔ ایم آر مانوی کے شکریہ اور مٹھائی کی تواضع سے شمپوزیم ختم ہوا۔ اس موقع پر کنڑا روزنامہ ’’کراولی منجاؤ‘‘کی طرف سے مہم کے پیش نظر تین صفحات پر مشتمل سپلمنٹ اخبار کی تقسیم ہوئی ۔


Share: